سبو اٹھا کہ یہ نازک مقام ہے ساقی
نہ اہرمن ہے نہ یزداں ہے دیکھیے کیا ہو
سید عابد علی عابد
شرع و آئین کی تعزیر کے با وصف شباب
لب و رخسار کی جانب نگراں ہے کہ جو تھا
سید عابد علی عابد
شب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا
یہ تیری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا
سید عابد علی عابد
ساقیا ہے تری محفل میں خداؤں کا ہجوم
محفل افروز ہو انساں تو مزا آ جائے
سید عابد علی عابد
مجھے دھوکا ہوا کہ جادو ہے
پاؤں بجتے ہیں تیرے بن چھاگل
سید عابد علی عابد
آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں
آج دل کے نگر سے گزرے ہیں
سید عابد علی عابد
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل
سید عابد علی عابد
کچھ احترام بھی کر غم کی وضع داری کا
گراں ہے عرض تمنا تو بار بار نہ کر
سید عابد علی عابد
کوئی برسا نہ سر کشت وفا
کتنے بادل گہر افشاں گزرے
سید عابد علی عابد

