نا شناسان محبت کا گلہ کیا کہ یہاں
اجنبی وہ ہیں کہ تھی جن سے شناسائی بھی
شوکت پردیسی
رات اک نادار کا گھر جل گیا تھا اور بس
لوگ تو بے وجہ سناٹے سے گھبرانے لگے
شوکت پردیسی
قریب سے اسے دیکھو تو وہ بھی تنہا ہے
جو دور سے نظر آتا ہے انجمن یارو
شوکت پردیسی
پھونک کر سارا چمن جب وہ شریک غم ہوئے
ان کو اس عالم میں بھی غم آشنا کہنا پڑا
شوکت پردیسی
نگاہ کو بھی میسر ہے دل کی گہرائی
یہ ترجمان محبت ہے بے زباں نہ کہو
شوکت پردیسی
کیا بڑھے گا وہ تصور کی حدوں سے آگے
صبح کی دیکھ کے یاد آئے جسے شام کی بات
شوکت پردیسی
کچھ تو فطرت سے ملی دانائی
کچھ میسر ہوئی نادانوں سے
شوکت پردیسی
شریک درد نہیں جب کوئی تو اے شوکتؔ
خود اپنی ذات کی بے چارگی غنیمت ہے
شوکت پردیسی
موج طوفاں سے نکل کر بھی سلامت نہ رہے
نذر ساحل ہوئے دریا کے شناور کتنے
شوکت پردیسی

