کسی کی بازی کیسی گھات
وقت کا پانسہ وقت کی بات
شوکت پردیسی
شوکتؔ وہ آج آپ کو پہچان تو گئے
اپنی نگاہ میں جو کبھی آسماں رہے
شوکت پردیسی
تم ہی اب وہ نہیں رہے ورنہ
وہی عالم وہی خدائی ہے
شوکت پردیسی
ان کی نگاہ ناز کی گردش کے ساتھ ساتھ
محسوس یہ ہوا کہ زمانہ بدل گیا
شوکت پردیسی
اس کی ہنسی تم کیا سمجھو
وہ جو پہروں رویا ہے
شوکت پردیسی
وہ آنکھیں جو اب اجنبی ہو گئی ہیں
بہت دور تک ان میں پایا گیا ہوں
شوکت پردیسی
یہ کیسی بے قراری سننے والوں کے دلوں میں ہے
ورق دہرا رہا ہے کیا کوئی میری کہانی کا
شوکت پردیسی
زندگی سے کوئی مانوس تو ہو لے پہلے
زندگی خود ہی سکھا دے گی اسے کام کی بات
شوکت پردیسی
ہوائیں روک نہ پائیں بھنور ڈبو نہ سکے
وہ ایک ناؤ جو عزم سفر کے بعد چلی
شوکت پردیسی

