سورج کے افق ہوتے ہیں منزل نہیں ہوتی
سو ڈھلتا رہا جلتا رہا چلتا رہا میں
سعود عثمانی
سمجھ لیا تھا تجھے دوست ہم نے دھوکے میں
سو آج سے تجھے بار دگر سمجھتے ہیں
سعود عثمانی
پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی
جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے
سعود عثمانی
نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی
سعود عثمانی
آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح
تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی
سعود عثمانی
میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں
سعود عثمانی
کچھ اور بھی درکار تھا سب کچھ کے علاوہ
کیا ہوگا جسے ڈھونڈتا تھا تیرے سوا میں
سعود عثمانی
کسی الاؤ کا شعلہ بھڑک کے بولتا ہے
سفر کٹھن ہے مگر ایک بار آخری بار
سعود عثمانی
خواہش ہے کہ خود کو بھی کبھی دور سے دیکھوں
منظر کا نظارہ کروں منظر سے نکل کر
سعود عثمانی

