ان سے بھی میری دوستی ان سے بھی رنجشیں
سینے میں ایک حلقۂ احباب اور ہے
سعود عثمانی
نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی
سعود عثمانی
پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی
جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے
سعود عثمانی
سمجھ لیا تھا تجھے دوست ہم نے دھوکے میں
سو آج سے تجھے بار دگر سمجھتے ہیں
سعود عثمانی
سورج کے افق ہوتے ہیں منزل نہیں ہوتی
سو ڈھلتا رہا جلتا رہا چلتا رہا میں
سعود عثمانی
تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے
تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا
سعود عثمانی
تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا
سعود عثمانی
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
سعود عثمانی
یہ تو دنیا بھی نہیں ہے کہ کنارا کر لے
تو کہاں جائے گا اے دل کے ستائے ہوئے شخص
سعود عثمانی

