EN हिंदी
بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں | شیح شیری
bichhaD gaya hai to ab us se kuchh gila bhi nahin

غزل

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

سعود عثمانی

;

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں
کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں

میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں

عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے
قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں

دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے
سو دل جلوں کا یہ ایسا کوئی پتا بھی نہیں

رگوں میں جمتے ہوئے خون کی طرح ہے سعودؔ
وہ حرف ہجر جو اس نے ابھی کہا بھی نہیں