نکلے تھے دونوں بھیس بدل کے تو کیا عجب
میں ڈھونڈتا خدا کو پھرا اور خدا مجھے
سلمان اختر
خالی برآمدوں نے مجھے دیکھ کر کہا
کیا بات ہے اداس سے کچھ لگ رہے ہو تم
سلمان اختر
کوئی شے ایک سی نہیں رہتی
عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں
سلمان اختر
کچھ تو اپنے لئے بھی رکھنا ہے
زخم اوروں کو کیوں دکھائیں سب
سلمان اختر
کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا
اور کچھ راستا نیا سا تھا
سلمان اختر
کیا نہیں جانتا مجھے کوئی
کیا نہیں شہر میں وہ گھر باقی
سلمان اختر
مجھے خبر نہ تھی اس گھر میں کتنے کمرے ہیں
میں کیسے لے کے وہاں ساری داستاں جاتا
سلمان اختر
زندگی ہم سے تو اس درجہ تغافل نہ برت
ہم بھی شامل تھے ترے چاہنے والوں میں کبھی
سلمان اختر
یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں
شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں
سلمان اختر

