EN हिंदी
سلمان اختر شیاری | شیح شیری

سلمان اختر شیر

27 شیر

کیا نہیں جانتا مجھے کوئی
کیا نہیں شہر میں وہ گھر باقی

سلمان اختر




کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا
اور کچھ راستا نیا سا تھا

سلمان اختر




کچھ تو اپنے لئے بھی رکھنا ہے
زخم اوروں کو کیوں دکھائیں سب

سلمان اختر




کوئی شے ایک سی نہیں رہتی
عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں

سلمان اختر




خالی برآمدوں نے مجھے دیکھ کر کہا
کیا بات ہے اداس سے کچھ لگ رہے ہو تم

سلمان اختر




ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہ ہو مگر
پہلے سا جوش پہلے سی شدت نہیں رہی

سلمان اختر




جس سے سارے چراغ جلتے تھے
وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا

سلمان اختر




جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو
درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو

سلمان اختر




جھانکتے رات کے گریباں سے
ہم نے سو آفتاب دیکھے ہیں

سلمان اختر