مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل
برسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد
پروین ام مشتاق
نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا
کسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا
پروین ام مشتاق
مجھے جب مار ہی ڈالا تو اب دونوں برابر ہیں
اڑاؤ خاک صرصر بن کے یا باد صبا بن کر
پروین ام مشتاق
مدت سے اشتیاق ہے بوس و کنار کا
گر حکم ہو شروع کرے اپنا کام حرص
پروین ام مشتاق
مری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتا
اڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ
پروین ام مشتاق
کیوں اجاڑا زاہدو بتخانۂ آباد کو
مسجدیں کافی نہ ہوتیں کیا خدا کی یاد کو
پروین ام مشتاق
کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھا
محبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوں
پروین ام مشتاق
کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میں
اب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میں
پروین ام مشتاق
نکلے ہیں گھر سے دیکھنے کو لوگ ماہ عید
اور دیکھتے ہیں ابروئے خم دار کی طرف
پروین ام مشتاق

