EN हिंदी
پروین ام مشتاق شیاری | شیح شیری

پروین ام مشتاق شیر

38 شیر

نکلے ہیں گھر سے دیکھنے کو لوگ ماہ عید
اور دیکھتے ہیں ابروئے خم دار کی طرف

پروین ام مشتاق




مجھے جب مار ہی ڈالا تو اب دونوں برابر ہیں
اڑاؤ خاک صرصر بن کے یا باد صبا بن کر

پروین ام مشتاق




مدت سے اشتیاق ہے بوس و کنار کا
گر حکم ہو شروع کرے اپنا کام حرص

پروین ام مشتاق




مری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتا
اڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ

پروین ام مشتاق




مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل
برسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد

پروین ام مشتاق




مخلوق کو تمہاری محبت میں اے بتو
ایمان کا خیال نہ اسلام کا لحاظ

پروین ام مشتاق




کیوں اجاڑا زاہدو بتخانۂ آباد کو
مسجدیں کافی نہ ہوتیں کیا خدا کی یاد کو

پروین ام مشتاق




کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میں
اب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میں

پروین ام مشتاق




کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھا
محبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوں

پروین ام مشتاق