EN हिंदी
نشور واحدی شیاری | شیح شیری

نشور واحدی شیر

31 شیر

سلیقہ جن کو ہوتا ہے غم دوراں میں جینے کا
وہ یوں شیشے کو ہر پتھر سے ٹکرایا نہیں کرتے

نشور واحدی




کس بے بسی کے ساتھ بسر کر رہا ہے عمر
انسان مشت خاک کا احساس لیے ہوئے

نشور واحدی




معاذ اللہ مے خانے کے اوراد سحرگاہی
اذاں میں کہہ گیا میں ایک دن یا پیر مے خانہ

نشور واحدی




میں ابھی سے کس طرح ان کو بے وفا کہوں
منزلوں کی بات ہے راستے میں کیا کہوں

نشور واحدی




میں تنکوں کا دامن پکڑتا نہیں ہوں
محبت میں ڈوبا تو کیسا سہارا

نشور واحدی




میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار
گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں

نشور واحدی




نشورؔ آلودۂ عصیاں سہی پر کون باقی ہے
یہ باتیں راز کی ہیں قبلۂ عالم بھی پیتے ہیں

نشور واحدی




قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے
جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے

نشور واحدی




زندگی پرچھائیاں اپنی لیے
آئنوں کے درمیاں سے آئی ہے

نشور واحدی