سن اے کوہ و دمن کو سبز خلعت بخشنے والے
نہیں ملتا ترے در سے غریبوں کو کفن اب تک
نثار اٹاوی
موسم گل ہے بادل چھائے کھنک رہے ہیں پیمانے
کیسی توبہ، توبہ توبہ، توبہ نذر جام کرو
نثار اٹاوی
ناہید و قمر نے راتوں کے احوال کو روشن کر تو دیا
وہ دیپ کسی سے جل نہ سکے جو دل میں اجالا کرتے ہیں
نثار اٹاوی
نگاہوں سے نا آشنا چند جلوے
پس لالہ و یاسمن اور بھی ہیں
نثار اٹاوی
قفس بھی ہے یہاں صیاد بھی گلچیں بھی کانٹے بھی
چمن کو ہم سمجھتے ہیں مگر اپنا چمن اب تک
نثار اٹاوی
شوق کتنے فریب دیتا ہے
مسکرا کر ہمارا نام نہ لے
نثار اٹاوی
صبح بچھڑ کر شام کا وعدہ شام کا ہونا سہل نہیں
ان کی تمنا پھر کر لینا صبح کو پہلے شام کرو
نثار اٹاوی
یقیناً رہبر منزل کہیں پر راستا بھولا
وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے
نثار اٹاوی
یہ دل والوں سے پوچھو اس کو دل والے سمجھتے ہیں
بگاڑ آئی ہوا زلفیں کسی کی یا سنوار آئی
نثار اٹاوی

