قفس بھی ہے یہاں صیاد بھی گلچیں بھی کانٹے بھی
چمن کو ہم سمجھتے ہیں مگر اپنا چمن اب تک
نثار اٹاوی
نگاہوں سے نا آشنا چند جلوے
پس لالہ و یاسمن اور بھی ہیں
نثار اٹاوی
ناہید و قمر نے راتوں کے احوال کو روشن کر تو دیا
وہ دیپ کسی سے جل نہ سکے جو دل میں اجالا کرتے ہیں
نثار اٹاوی
موسم گل ہے بادل چھائے کھنک رہے ہیں پیمانے
کیسی توبہ، توبہ توبہ، توبہ نذر جام کرو
نثار اٹاوی
آ دوست ساتھ آ در ماضی سے مانگ لائیں
وہ اپنی زندگی کہ جواں بھی حسیں بھی تھی
نثار اٹاوی
کچھ حسن کے فسانے ترتیب دے رہا ہوں
دفتر الٹ رہا ہوں ہر پھول ہر کلی کا
نثار اٹاوی
کتنے پر ہول اندھیروں سے گزر کر اے دوست
ہم ترے حسن کی رخشندہ سحر تک پہنچے
نثار اٹاوی
کلی کی خو ہے بہرحال مسکرانے کی
وگرنہ راس کسے ہے ہوا زمانے کی
نثار اٹاوی
کل جو ذکر جام و مینا آ گیا
میری توبہ کو پسینا آ گیا
نثار اٹاوی

