قائم ہے آبرو تو غنیمت یہی سمجھ
میلے سے ہیں جو کپڑے پھٹا سا جو بوٹ ہے
ناصر شہزاد
پستکوں میں پرانوں میں ارضوں میں آسمانوں میں
ایک نام کی بھگتی ایک قول کا کلمہ
ناصر شہزاد
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یوں ہی بچھڑ گیا
پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یوں ہی کٹ گئے
ناصر شہزاد
پھر مجھے مل ندی کنارے کہیں
پھر بڑھا مان آ کے راہوں کا
ناصر شہزاد
پاٹی ہیں ہم نے بپھری چنابیں ترے لئے
ہم لے گئے ہیں تجھ کو سوئمبر سے جیت کے
ناصر شہزاد
اخروٹ کھائیں تاپیں انگیٹھی پہ آگ آ
رستے تمام گاؤں کے کہرے سے اٹ گئے
ناصر شہزاد
نین نچنت ہیں دیکھ کے تجھ کو
دل ہے ازل سے ہکا بکا
ناصر شہزاد
مجمع نہیں مجلہ ہے اشعار کی جگہ
بھر اور کوئی سوانگ جو ہونا ہی ہوٹ ہے
ناصر شہزاد
کچھ گریزاں بھی رہے ہم خود سے
کچھ کہانی بھی المناک ہوئی
ناصر شہزاد

