اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے
مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے
نفس انبالوی
مرے خیال کی پرواز بس تمہیں تک تھی
پھر اس کے بعد مجھے کوئی آسماں نہ ملا
نفس انبالوی
نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتے
ہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگا
نفس انبالوی
ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیں
لیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھا
نفس انبالوی
تاریکیاں قبول تھیں مجھ کو تمام عمر
لیکن میں جگنوؤں کی خوشامد نہ کر سکا
نفس انبالوی
تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لینا
ترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیں
نفس انبالوی
یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیں
آنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیں
نفس انبالوی
زندگی وقت کے صفحوں میں نہاں ہے صاحب
یہ غزل صرف کتابوں میں نہیں ملتی ہے
نفس انبالوی
زخم ابھی تک تازہ ہیں ہر داغ سلگتا رہتا ہے
سینہ میں اک جلیاں والا باغ سلگتا رہتا ہے
نفس انبالوی

