EN हिंदी
مصطفی شہاب شیاری | شیح شیری

مصطفی شہاب شیر

21 شیر

میں بھی شاید آپ کو تنہا ملوں
اپنی تنہائی میں جا کر دیکھیے

مصطفی شہاب




استعارے زمین سے جائیں
اک غزل آسمان سے اترے

مصطفی شہاب




کار زندگانی کے شور و شر میں مدت سے
اس کو بھول جانے کا احتمال رہتا ہے

مصطفی شہاب




کہا تھا میں نے کھو کر بھی تجھے زندہ رہوں گا
وہ ایسا جھوٹ تھا جس کو نبھانا پڑ گیا ہے

مصطفی شہاب




خوف اک بلندی سے پستیوں میں رلنے کا
آب جو میں رہتا ہے اور نظر نہیں آتا

مصطفی شہاب




میں اور میرا شوق سفر ساتھ ہیں مگر
یہ اور بات ہے کہ سفر ہو گئے تمام

مصطفی شہاب




شاید وہ بھولی بسری نہ ہو آرزو کوئی
کچھ اور بھی کمی سی ہے تیری کمی کے ساتھ

مصطفی شہاب




ذہن میں یاد کے گھر ٹوٹنے لگتے ہیں شہابؔ
لوگ ہو جاتے ہیں جی جی کے پرانے کتنے

مصطفی شہاب




صبح تک جانے کہاں مجھ کو اڑا کر لے جائے
ایک آندھی جو سر شام چلی ہے مجھ میں

مصطفی شہاب