قسم مے کی مجھ بن ہے میرے لہو کی
جو ہم بن پیو تو ہمارا لہو ہے
مرزا اظفری
اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں
بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا
مرزا اظفری
او عطارد زحل نحس سے ٹک مانگ مداد
بخت کا ماجرا لکھتا ہوں سیاہی دینا
مرزا اظفری
کس زمانے کی یہ دشمن تھی مری
اس محبت کا ہو منہ کالا میاں
مرزا اظفری
اے مصور شتاب ہو کہ ابھی
اس کا نقشہ دھیان میں کچھ ہے
مرزا اظفری
کاکل نہیں لٹکتے کچھ ان کی چھاتیوں پر
چوکاں سے یہ کھلنڈرے گیندیں اچھالتے ہیں
مرزا اظفری
جو آیا یار تو تو ہو چلا غش اے دوانے دل
اسی دم تجھ کو مرنا تھا بتا کیا تجھ کو دہاڑ آئی
مرزا اظفری
جلاؤ مارو درکارو بلا لو گالیاں دے لو
کرو جو چاہو ہم کس بات سے اکراہ رکھتے ہیں
مرزا اظفری
ہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں
دیکھ اب یہ دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر
مرزا اظفری

