EN हिंदी
مرزا اظفری شیاری | شیح شیری

مرزا اظفری شیر

26 شیر

سونی گئی میں ہوئی یار سے مڈبھیڑ آج
پوچھو کوئی کس لئے منہ پہ کر اوجھل گیا

مرزا اظفری




کس زمانے کی یہ دشمن تھی مری
اس محبت کا ہو منہ کالا میاں

مرزا اظفری




او عطارد زحل نحس سے ٹک مانگ مداد
بخت کا ماجرا لکھتا ہوں سیاہی دینا

مرزا اظفری




اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں
بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا

مرزا اظفری




قسم مے کی مجھ بن ہے میرے لہو کی
جو ہم بن پیو تو ہمارا لہو ہے

مرزا اظفری




رفو جیب مجنوں ہوا کب اے ناصح
تو مر جائے گا اس کے سیتے ہی سیتے

مرزا اظفری




شتابی اپنے دیوانے کو کر بند
مسلسل زلف سے کر یا نظر بند

مرزا اظفری




وہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ
ہم قلم ساں اس کے، سر کے بھل گئے

مرزا اظفری




زندگی چبھ رہی ہے کانٹا سی
گر یہ نکلے تو سب خلل جاوے

مرزا اظفری