سہل ہو گرچہ عدو کو مگر اس کا ملنا
اتنا میں خوب سمجھتا ہوں کہ آساں تو نہیں
میر مہدی مجروح
طالب دوست الگ رہتے ہیں سب سے ان کو
پاس اصنام نہیں خواہش اسلام نہیں
میر مہدی مجروح
سنا حال دل مجروحؔ شب کو
کوئی حسرت سی حسرت تھی بیاں میں
میر مہدی مجروح
شوق سے شوق ہے کچھ منزل کا
راہبر سے بھی بڑھے جاتے ہیں
میر مہدی مجروح
شغل الفت کو جو احباب برا کہتے ہیں
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا کہتے ہیں
میر مہدی مجروح
نئے فتنے جو اٹھتے ہیں جہاں میں
صلاحیں سب یہ لیتے ہیں تمہیں سے
میر مہدی مجروح
نہ تو صیاد کا کھٹکا نہ خزاں کا دھڑکا
ہم کو وہ چین قفس میں ہے کہ بستاں میں نہیں
میر مہدی مجروح
نہ اس کے لب کو فقط لعل کہہ کے ختم کرو
ابھی تو اس میں بہت سی ہے گفتگو باقی
میر مہدی مجروح
ترشح ہاں کرے جس کی نہیں پر
مری سو جاں تصدق اس نہیں پر
میر مہدی مجروح

