تو ہی بہتر ہے آئنہ ہم سے
ہم تو اتنے بھی روشناس نہیں
میر اثر
نہ کہا جائے کہ دشمن نہ کہا جائے کہ دوست
کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے اثرؔ کون ہے وہ
میر اثر
پہلے سو بار ادھر ادھر دیکھا
جب تجھے ڈر کے اک نظر دیکھا
میر اثر
راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
میر اثر
رقیب دیکھ سنبھل کر کے سامنے آنا
برہنہ تیغ ہیں اک دست روزگار میں ہم
میر اثر
تیرے آنے کا احتمال رہا
مرتے مرتے بھی یہ خیال رہا
میر اثر
یار غصہ تری بلا کھاوے
کام نکلے جو مسکرانے سے
میر اثر
یوں خدا کی خدائی برحق ہے
پر اثرؔ کی ہمیں تو آس نہیں
میر اثر
یوں آگ میں سے بھاگ نکلنا نظر بچا
اپنے تئیں تو وضع نہ بھائی شرار کی
میر اثر

