EN हिंदी
مخمور سعیدی شیاری | شیح شیری

مخمور سعیدی شیر

26 شیر

صاف بتا دے جو تو نے دیکھا ہے دن رات
دنیا کے ڈر سے نہ رکھ دل میں دل کی بات

مخمور سعیدی




میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں
ہزار بار جسے آزما لیا میں نے

To this day her promises I do still believe
who a thousand times has been wont to deceive

مخمور سعیدی




مصلحت کے ہزار پردے ہیں
میرے چہرے پہ کتنے چہرے ہیں

مخمور سعیدی




مدتوں بعد ہم کسی سے ملے
یوں لگا جیسے زندگی سے ملے

مخمور سعیدی




راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر
گھر سے نکلو گے تو مخمورؔ کدھر جاؤ گے

مخمور سعیدی




رخت سفر جو پاس ہمارے نہ تھا تو کیا
شوق سفر کو ساتھ لیا اور چل پڑے

مخمور سعیدی




روش روش پر باغ ہیں کانٹے کلیاں پھول
میں نے کانٹے چن لیے ہوئی یہ کیسی بھول

مخمور سعیدی




ان سے امید ملاقات کے بعد اے مخمورؔ
مدتوں تک نہ خود اپنے سے ملاقات ہوئی

مخمور سعیدی




زباں پہ شکر و شکایت کے سو فسانے ہیں
مگر جو دل پہ گزرتی ہے کیا کہا جائے

مخمور سعیدی