تمہارے واسطے سب کچھ ہے میرے بندہ نواز
مگر یہ شرط کہ پہلے پسند آؤ مجھے
محبوب خزاں
پلٹ گئیں جو نگاہیں انہیں سے شکوہ تھا
سو آج بھی ہے مگر دیر ہو گئی شاید
محبوب خزاں
مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والے
تری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں
محبوب خزاں
کوئی رستہ کہیں جائے تو جانیں
بدلنے کے لیے رستے بہت ہیں
محبوب خزاں
اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو
محبوبؔ خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے
محبوب خزاں
خزاںؔ کبھی تو کہو ایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں
محبوب خزاں
کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ
سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے
محبوب خزاں
کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ
سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے
محبوب خزاں
ہوا چلی تو پھر آنکھوں میں آ گئے سب رنگ
مگر وہ سات برس لوٹ کر نہیں آئے
محبوب خزاں

