مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں
یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے
خوشبیر سنگھ شادؔ
روپ رنگ ملتا ہے خد و خال ملتے ہیں
آدمی نہیں ملتا آدمی کے پیکر میں
خوشبیر سنگھ شادؔ
شادؔ اتنی بڑھ گئی ہیں میرے دل کی وحشتیں
اب جنوں میں دشت اور گھر ایک جیسے ہو گئے
خوشبیر سنگھ شادؔ
تھے جس کا مرکزی کردار ایک عمر تلک
پتہ چلا کہ اسی داستاں کے تھے ہی نہیں
خوشبیر سنگھ شادؔ
یہی قطرے بناتے ہیں کبھی تو گھاس پر موتی
کبھی شبنم کو یہ سیماب میں تبدیل کرتے ہیں
خوشبیر سنگھ شادؔ
یہ ممکن ہے تمہارا عکس ہی برہم ہو چہرے سے
اسے تم آئنے کی سرگرانی کیوں سمجھتے ہو
خوشبیر سنگھ شادؔ
یہ سچ ہے چند لمحوں کے لئے بسمل تڑپتا ہے
پھر اس کے بعد ساری زندگی قاتل تڑپتا ہے
خوشبیر سنگھ شادؔ
یہ تیرا تاج نہیں ہے ہماری پگڑی ہے
یہ سر کے ساتھ ہی اترے گی سر کا حصہ ہے
خوشبیر سنگھ شادؔ
ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے
یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں
خوشبیر سنگھ شادؔ

