EN हिंदी
خلیل تنویر شیاری | شیح شیری

خلیل تنویر شیر

31 شیر

تیری آمد کی منتظر آنکھیں
بجھ گئیں خاک ہو گئے رستے

خلیل تنویر




میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے
کئی حجاب اٹھائے مگر حجاب میں ہوں

خلیل تنویر




پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

خلیل تنویر




پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے
مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے

خلیل تنویر




رواں تھی کوئی طلب سی لہو کے دریا میں
کہ موج موج بھنور عمر کا سفینہ تھا

خلیل تنویر




رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے
حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے

خلیل تنویر




شب کی دیوار گری تو دیکھا
نوک نشتر ہے سحر کچھ بھی نہیں

خلیل تنویر




تمام درد کے رشتوں سے واسطہ نہ رہے
حصار جسم سے نکلوں تو بے صدا ہو جاؤں

خلیل تنویر




زمانہ لاکھ ستاروں کو چھو کے آ جائے
ابھی دلوں کو مگر حاجت رفو ہے وہی

خلیل تنویر