شور جتنا ہے کائنات میں شور
میرے اندر کی خامشی سے ہوا
کاشف حسین غائر
مجھ سے رستوں کا بچھڑنا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے ملنے وہ کسی موڑ پہ آیا نہ کرے
کاشف حسین غائر
نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے
نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا
کاشف حسین غائر
نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے
یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے
کاشف حسین غائر
نیند اڑنے لگی ہے آنکھوں سے
دھول جمنے لگی ہے بستر پر
کاشف حسین غائر
صحرا میں آ نکلے تو معلوم ہوا
تنہائی کو وسعت کم پڑ جاتی ہے
کاشف حسین غائر
زمیں آباد ہوتی جا رہی ہے
کہاں جائے گی تنہائی ہماری
کاشف حسین غائر
زندگی میں کسک ضروری تھی
یہ خلا پر تری کمی سے ہوا
کاشف حسین غائر
زندگی دھوپ میں آنے سے کھلی
سایہ دیوار اٹھانے سے کھلا
کاشف حسین غائر

