جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
کیفی اعظمی
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں
کیفی اعظمی
رہیں نہ رند یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
کیفی اعظمی
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا
کیفی اعظمی
مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ
جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے
کیفی اعظمی
میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا
گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی
کیفی اعظمی
کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے
کیفی اعظمی
جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں
یہاں تو کوئی مرا ہم زباں نہیں ملتا
کیفی اعظمی
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
کیفی اعظمی

