EN हिंदी
کیف بھوپالی شیاری | شیح شیری

کیف بھوپالی شیر

35 شیر

مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو
اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

کیف بھوپالی




سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے
ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

کیف بھوپالی




سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ

کیف بھوپالی




مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو
مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں

کیف بھوپالی




مت دیکھ کہ پھرتا ہوں ترے ہجر میں زندہ
یہ پوچھ کہ جینے میں مزہ ہے کہ نہیں ہے

کیف بھوپالی




ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

کیف بھوپالی




کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا

کیف بھوپالی




تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

کیف بھوپالی




میں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا
دور تک مجھ کو اک آواز بلانے آئی

کیف بھوپالی