ناخن یار سے بھی کھل نہ سکی
دانۂ اشک کی گرہ اے چشم
جوشش عظیم آبادی
شرط انداز ہے اگر آئے
بات چھوٹی ہو یا بڑی منہ پر
جوشش عظیم آبادی
سجدہ جسے کریں ہیں وو ہر سو ہے جلوہ گر
جیدھر ترا مزاج ہو اودھر نماز کر
جوشش عظیم آبادی
صبا بھی دور کھڑی اپنے ہاتھ ملتی ہے
تری گلی میں کسی کا گزر نہیں ہرگز
جوشش عظیم آبادی
رکھتے ہیں دہانوں پہ سدا مہر خموشی
وے لوگ جنہیں آتی ہے گفتار محبت
جوشش عظیم آبادی
پھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان
اس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے
جوشش عظیم آبادی
کفر پر مت طعن کر اے شیخ میرے رو بہ رو
مجھ کو ہے معلوم کیفیت ترے اسلام کی
جوشش عظیم آبادی
خار زار عشق کو کیا ہو گیا
پاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں
جوشش عظیم آبادی
کس طرح تجھ سے ملاقات میسر ہووے
یہ دعا گو ترا نے زور نہ زر رکھتا ہے
جوشش عظیم آبادی

