EN हिंदी
افتخار نسیم شیاری | شیح شیری

افتخار نسیم شیر

21 شیر

میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک

افتخار نسیم




کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں
جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ

افتخار نسیم




اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں

افتخار نسیم




کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا

افتخار نسیم




جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا

افتخار نسیم




جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے
جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے

افتخار نسیم




اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو
تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو

افتخار نسیم




ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

افتخار نسیم




غیر ہو کوئی تو اس سے کھل کے باتیں کیجئے
دوستوں کا دوستوں سے ہی گلہ اچھا نہیں

افتخار نسیم