EN हिंदी
افتخار نسیم شیاری | شیح شیری

افتخار نسیم شیر

21 شیر

طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں
چل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں

افتخار نسیم




کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں
جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ

افتخار نسیم




میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک

افتخار نسیم




مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

افتخار نسیم




نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا

افتخار نسیم




نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا
گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا

افتخار نسیم




تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تیرے نہ تھے
تو نے دیکھا ہی نہیں کچھ بھی تو پاگل ہے ابھی

افتخار نسیم




یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا

افتخار نسیم




اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

افتخار نسیم