تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا
ابراہیم اشکؔ
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
ابراہیم اشکؔ
نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو
ابراہیم اشکؔ
نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو
ابراہیم اشکؔ
پتھر میں بھی آگ ہے چھیڑو تو جل جائے
جو اس آگ میں تپ گیا وہ ہیرا کہلائے
ابراہیم اشکؔ
پیاسی دھرتی دیکھ کے بادل اڑ اڑ جائے
یہ دنیا کی ریت ہے ترسے کو ترسائے
ابراہیم اشکؔ
یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا
ابراہیم اشکؔ
زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے
ابراہیم اشکؔ
زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ
ابراہیم اشکؔ

