نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو
ابراہیم اشکؔ
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
ابراہیم اشکؔ
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں
ابراہیم اشکؔ
من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جائے گا میت
ابراہیم اشکؔ
کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل
ابراہیم اشکؔ
کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو
ابراہیم اشکؔ
کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا
ابراہیم اشکؔ
خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
ابراہیم اشکؔ
کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے
ابراہیم اشکؔ

