مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد
نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی
ہیرا لال فلک دہلوی
مقام برق جسے آسماں بھی کہتے ہیں
ارادہ اب ہے وہاں اپنا گھر بنانے کا
ہیرا لال فلک دہلوی
اب کہے جاؤ فسانے مری غرقابی کے
موج طوفاں کو مرے حق میں تھا ساحل ہونا
ہیرا لال فلک دہلوی
میں نے انجام سے پہلے نہ پلٹ کر دیکھا
دور تک ساتھ مرے منزل آغاز گئی
ہیرا لال فلک دہلوی
لوگ اندازہ لگائیں گے عمل سے میرے
میں ہوں کیسا مرے ماتھے پہ یہ تحریر نہیں
ہیرا لال فلک دہلوی
کیا بات ہے نظروں سے اندھیرا نہیں جاتا
کچھ بات نہ کر لی ہو شب غم نے سحر سے
ہیرا لال فلک دہلوی
ہم تو منزل کے طلب گار تھے لیکن منزل
آگے بڑھتی ہے گئی راہ گزر کی صورت
ہیرا لال فلک دہلوی
حال بیمار کا پوچھو تو شفا ملتی ہے
یعنی اک کلمۂ پرسش بھی دوا ہوتا ہے
ہیرا لال فلک دہلوی
دیکھوں گا کس قدر تری رحمت میں جوش ہے
پروردگار مجھ کو گناہوں کا ہوش ہے
i will see to what extent your mercy is sublime
my lord I am aware of the nature of my crime
ہیرا لال فلک دہلوی

