مار ڈالا تری آنکھوں نے ہمیں
شیر کا کام ہرن کرتے ہیں
حاتم علی مہر
رات دن سجدے کیا کرتا ہے حوروں کے لئے
کوئی زاہد کی نمازوں میں تو نیت دیکھتا
حاتم علی مہر
نہ ذقن ہے وہ نہ لب ہیں نہ وہ پستاں نہ وہ قد
سیب و عناب و انار ایک شجر سے نکلے
حاتم علی مہر
نہ لے جا دیر سے کعبہ ہمیں زاہد کہ ہم واں بھی
خدا کو بھول جاتے ہیں بتوں کو یاد کرتے ہیں
حاتم علی مہر
مجمع میں رقیبوں کے کھلا تھا ترا جوڑا
کل رات عجب خواب پریشاں نظر آیا
حاتم علی مہر
کیا بتوں میں ہے خدا جانے بقول استاد
نہ کمر رکھتے ہیں کافر نہ دہن رکھتے ہیں
حاتم علی مہر
کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے
تو دیر و حرم کیا ہے کہیں گے نہ رہیں گے
حاتم علی مہر
کوئے قاتل میں بسے گی نئی دنیا اک اور
روز ہوتا ہے نیا شہر خموشاں آباد
حاتم علی مہر
راتوں کو بت بغل میں ہیں قرآں تمام دن
ہندو تمام شب ہوں مسلماں تمام دن
حاتم علی مہر

