EN हिंदी
حاتم علی مہر شیاری | شیح شیری

حاتم علی مہر شیر

37 شیر

رات دن سجدے کیا کرتا ہے حوروں کے لئے
کوئی زاہد کی نمازوں میں تو نیت دیکھتا

حاتم علی مہر




کس پر نہیں رہی ہے عنایت حضور کی
صاحب نہیں مجھی پہ تمہارا کرم فقط

حاتم علی مہر




ساری عزت نوکری سے اس زمانے میں ہے مہرؔ
جب ہوئے بے کار بس توقیر آدھی رہ گئی

حاتم علی مہر




صبا جو بڑی باغ والی ہوئی ہے
تمہاری گلی کی نکالی ہوئی ہے

حاتم علی مہر




تری تلاش سے باقی کوئی مکاں نہ رہا
حرم میں دیر میں بندہ کہاں کہاں نہ رہا

حاتم علی مہر




تو نے وحدت کو کر دیا کثرت
کبھی تنہا نظر نہیں آتا

حاتم علی مہر




وحدہ لا شریک کی ہے قسم
اے صنم تم بتوں میں یکتا ہو

حاتم علی مہر




یاد میں اک شوخ پنجابی کے روتے ہیں جو ہم
آج کل پنجاب میں بہتا ہے دریا ایک اور

حاتم علی مہر




یاد رکھنے کی یہ باتیں ہیں بجا ہے سچ ہے
آپ بھولے نہ ہمیں آپ کو ہم بھول گئے

حاتم علی مہر