ساقیا ایسا پلا دے مے کا مجھ کو جام تلخ
زندگی دشوار ہو اور ہو مجھے آرام تلخ
حقیر
خوب مل کر گلے سے رو لینا
اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے
حقیر
کی کسی پر نہ جفا میرے بعد
خوب روئے وہ سنا میرے بعد
حقیر
کیا جانیں ان کی چال میں اعجاز ہے کہ سحر
وہ بھی انہیں سے مل گئے جو تھے ہمارے لوگ
حقیر
کیوں نہ کعبہ کو کہوں اللہ کا اور بت کا گھر
وہ بھی میرے دل میں ہے اور یہ بھی میرے دل میں ہے
حقیر
مجھے اب موت بہتر زندگی سے
وہ کی تم نے ستم گاری کہ توبہ
حقیر
ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیں
پھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں
حقیر
یک بہ یک ترک نہ کرنا تھا محبت مجھ سے
خیر جس طرح سے آتا تھا وہ آتا جاتا
حقیر
یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا
بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا
حقیر

