EN हिंदी
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی شیاری | شیح شیری

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی شیر

27 شیر

کبھی ہاتھ بھی آئے گا یار سچ کہہ
یا یوں ہی تو باتیں بناتا رہے گا

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




ہر کوئی اپنی فہم ناقص میں
پختہ سودائے خام رکھتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




عشق میں درد سے ہے حرمت دل
چشم کو آبرو ہے آنسو سے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




عشق میں خوب نیں بہت رونا
اس سے افشائے راز ہوتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




عشق نے سامنے ہوتے ہی جلایا دل کو
جیسے بستی کو لگاوے ہے عدو جنگ میں آگ

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




جو جی چاہے ہے دیکھوں ماہ نو کہتا ہے دل میرا
ادھر کیا دیکھتا ہے ابروئے خم دار کے بندے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




کب اس جی کی حالت کوئی جانتا ہے
جو جی جانتا ہے سو جی جانتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




تجھ بن اک دل ہو پاس رہتا ہے
وہ بھی اکثر اداس رہتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




شب ہجر میں ایک دن دیکھنا
اگر زندگی ہے تو مر جائیں گے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی