جو جی چاہے ہے دیکھوں ماہ نو کہتا ہے دل میرا
ادھر کیا دیکھتا ہے ابروئے خم دار کے بندے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق نے سامنے ہوتے ہی جلایا دل کو
جیسے بستی کو لگاوے ہے عدو جنگ میں آگ
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق میں خوب نیں بہت رونا
اس سے افشائے راز ہوتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق میں درد سے ہے حرمت دل
چشم کو آبرو ہے آنسو سے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
ہر کوئی اپنی فہم ناقص میں
پختہ سودائے خام رکھتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
آنکھوں سے اسی طرح اگر سیل رواں ہے
دنیا میں کوئی گھر نہ رہا ہے نہ رہے گا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
ہے افسوس اے عمر جانے کا تیرے
کہ تو میرے پاس ایک مدت رہی ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
حاجی تو تو راہ کو بھولا منزل کو کوئی پہنچے ہے
دل سا قبلہ چھوڑ کے تو نے کعبے کا احرام کیا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
گر شیخ عزم منزل حق ہے تو آ ادھر
ہے دل کی راہ سیدھی و کعبے کی راہ کج
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

