نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھی
خبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتا
غلام مولیٰ قلق
شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دور
گھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریں
غلام مولیٰ قلق
رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا تو
ساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیا
غلام مولیٰ قلق
پہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ
پھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے
غلام مولیٰ قلق
پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانے
کہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانے
غلام مولیٰ قلق
نالہ کرتا ہوں لوگ سنتے ہیں
آپ سے میرا کچھ کلام نہیں
غلام مولیٰ قلق
نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ میں ہوں نہ تو ہے
ہزاروں تصور اور اک آرزو ہے
غلام مولیٰ قلق
محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
جو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتا
غلام مولیٰ قلق
کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نماز
حق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعد
غلام مولیٰ قلق

