مل نہیں پاتی خود اپنے آپ سے فرصت مجھے
مجھ سے بھی محروم رہتی ہے کبھی محفل مری
غلام حسین ساجد
راس آئی ہے نہ آئے گی یہ دنیا لیکن
روک رکھا ہے مجھے کوچ کی تیاری نے
غلام حسین ساجد
نشاط اظہار پر اگرچہ روا نہیں اعتبار کرنا
مگر یہ سچ ہے کہ آدمی کا سراغ ملتا ہے گفتگو سے
غلام حسین ساجد
مری وراثت میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی دہر کے لیے ہے
یہ رنگ اک خواب کے لیے ہے یہ آگ اک شہر کے لیے ہے
غلام حسین ساجد
مرے مایوس رہنے پر اگر وہ شادماں ہے
تو کیوں خود کو میں اس کے واسطے برباد کر دوں
غلام حسین ساجد
متاع برگ و ثمر وہی ہے شباہت رنگ و بو وہی ہے
کھلا کہ اس بار بھی چمن پر گرفت دست نمو وہی ہے
غلام حسین ساجد
میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا
وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں
غلام حسین ساجد
راس آتی ہی نہیں جب پیار کی شدت مجھے
اک کمی اپنی محبت میں کہیں رکھوں گا میں
غلام حسین ساجد
میری قسمت ہے یہ آوارہ خرامی ساجدؔ
دشت کو راہ نکلتی ہے نہ گھر آتا ہے
غلام حسین ساجد

