EN हिंदी
غلام حسین ساجد شیاری | شیح شیری

غلام حسین ساجد شیر

34 شیر

میں ہوں مگر آج اس گلی کے سبھی دریچے کھلے ہوئے ہیں
کہ اب میں آزاد ہو چکا ہوں تمام آنکھوں کے دائروں سے

غلام حسین ساجد




رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں
چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں

غلام حسین ساجد




ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے
چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

غلام حسین ساجد




تڑپ اٹھی ہے کسی نگر میں قیام کرنے سے روح میری
سلگ رہا ہے کسی مسافت کی بے کلی سے دماغ میرا

غلام حسین ساجد




اس کے ہونے سے ہوئی ہے اپنے ہونے کی خبر
کوئی دشمن سے زیادہ لائق عزت نہیں

غلام حسین ساجد




یہ آب و تاب اسی مرحلے پہ ختم نہیں
کوئی چراغ ہے اس آئنے سے باہر بھی

غلام حسین ساجد




یہ سچ ہے میری صدا نے روشن کیے ہیں محراب پر ستارے
مگر مری بے قرار آنکھوں نے آئنے کا زیاں کیا ہے

غلام حسین ساجد




یہ سچ ہے مل بیٹھنے کی حد تک تو کام آئی ہے خوش گمانی
مگر دلوں میں یہ دوستی کی نمود ہے راحت بیاں سے

غلام حسین ساجد




عشق پر اختیار ہے کس کا
فائدہ پیش و پس میں کچھ بھی نہیں

غلام حسین ساجد