EN हिंदी
احسان دانش شیاری | شیح شیری

احسان دانش شیر

36 شیر

مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر
بیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو

احسان دانش




ستا لو مجھے زندگی میں ستا لو
کھلے گا پس مرگ احسان کیا تھا

احسان دانش




رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی
سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی

احسان دانش




نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے
میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں

احسان دانش




مرنے والے فنا بھی پردہ ہے
اٹھ سکے گر تو یہ حجاب اٹھا

احسان دانش




میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنی
مجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنی

احسان دانش




لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

احسان دانش




شورش عشق میں ہے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو

احسان دانش




میں جس رفتار سے طوفاں کی جانب بڑھتا جاتا ہوں
اسی رفتار سے نزدیک ساحل ہوتا جاتا ہے

احسان دانش