میں تھوڑی دیر بھی آنکھوں کو اپنی بند کر لوں تو
اندھیروں میں مجھے اک روشنی محسوس ہوتی ہے
بھارت بھوشن پنت
تو ہمیشہ مانگتا رہتا ہے کیوں غم سے نجات
غم نہیں ہوں گے تو کیا تیری خوشی بڑھ جائے گی
بھارت بھوشن پنت
سورج سے اس کا نام و نسب پوچھتا تھا میں
اترا نہیں ہے رات کا نشہ ابھی تلک
بھارت بھوشن پنت
شاید بتا دیا تھا کسی نے مرا پتہ
میلوں مری تلاش میں رستہ نکل گیا
بھارت بھوشن پنت
سبب خاموشیوں کا میں نہیں تھا
مرے گھر میں سبھی کم بولتے تھے
بھارت بھوشن پنت
میں اپنے لفظ یوں باتوں میں ضائع کر نہیں سکتا
مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے اسے شعروں میں کہتا ہوں
بھارت بھوشن پنت
کتنا آسان تھا بچپن میں سلانا ہم کو
نیند آ جاتی تھی پریوں کی کہانی سن کر
بھارت بھوشن پنت
میں اب جو ہر کسی سے اجنبی سا پیش آتا ہوں
مجھے اپنے سے یہ وابستگی مجبور کرتی ہے
بھارت بھوشن پنت
امیدوں سے پردہ رکھا خوشیوں سے محروم رہیں
خواب مرا تو چالس دن تک سوگ منایا آنکھوں نے
بھارت بھوشن پنت

