EN हिंदी
بکل دیو شیاری | شیح شیری

بکل دیو شیر

20 شیر

شام اتری ہے پھر احاطے میں
جسم پر روشنی کے گھاؤ لیے

بکل دیو




ملے اب کے تو روئے ٹوٹ کر ہم
گناہ اپنی سزا کے رو بہ رو تھا

بکل دیو




مسکرانے کا فن تو بعد کا ہے
پہلے ساعت کا انتخاب کرو

بکل دیو




سمت دنیا کے ہم گئے ہی نہیں
اس علاقے سے دشمنی سی رہی

بکل دیو




سمندر ہے کوئی آنکھوں میں شاید
کناروں پر چمکتے ہیں گہر سے

بکل دیو




اتر جاتا تو رسوائی بہت ہوتی
کہ سر کا بوجھ بھی دستار جیسا تھا

بکل دیو




زیر لب رکھ چھپا کے نام اس کا
لفظ ہوتے ہیں کچھ بیاں سے خراب

بکل دیو




وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے

بکل دیو




میں سارے فاصلے طے کر چکا ہوں
خودی جو درمیاں تھی درمیاں ہے

بکل دیو