EN हिंदी
بکل دیو شیاری | شیح شیری

بکل دیو شیر

20 شیر

ملے اب کے تو روئے ٹوٹ کر ہم
گناہ اپنی سزا کے رو بہ رو تھا

بکل دیو




آئنہ میں ہے پھر وہی صورت
یوں ہی ہوتی ہے ترجمانی کیا

بکل دیو




خواب ندی سا گزر جائے گا
دشت آنکھوں میں ٹھہر جانا ہے

بکل دیو




کشش تجھ سی نہ تھی تیرے غموں میں
لب و لہجہ مگر ہاں ہو بہ ہو تھا

بکل دیو




ہوس شامل ہے تھوڑی سی دعا میں
ابھی اس لو میں ہلکا سا دھواں ہے

بکل دیو




ہمیں اس طرح ہی ہونا تھا آباد
ہمارے ساتھ ویرانے لگے ہیں

بکل دیو




ہم جو ٹوٹے ہیں بتا ہار بھلا کس کی ہوئی
زندگی تیری اٹھائی ہوئی سوگند تھے ہم

بکل دیو




ایک نشہ ہے خود نمائی بھی
جو یہ اترے تو پھر تجھے دیکھوں

بکل دیو




بعد مدت یہ جلا کس کے ہنر نے بخشی
بعد مدت مرے آئینے میں چہرہ آئے

بکل دیو