EN हिंदी
عاصمؔ واسطی شیاری | شیح شیری

عاصمؔ واسطی شیر

26 شیر

تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو
کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو

عاصمؔ واسطی




مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

عاصمؔ واسطی




مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز
اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ہے

عاصمؔ واسطی




نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ
یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے

عاصمؔ واسطی




سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ
وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے

عاصمؔ واسطی




تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم
بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا

عاصمؔ واسطی




تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری
ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں

عاصمؔ واسطی




وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے
کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے

عاصمؔ واسطی




زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم
سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

عاصمؔ واسطی