سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ
وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے
عاصمؔ واسطی
نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ
یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے
عاصمؔ واسطی
مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز
اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ہے
عاصمؔ واسطی
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
عاصمؔ واسطی
اب یہی سوچتے رہتے ہیں بچھڑ کر تجھ سے
شاید ایسے نہیں ہوتا اگر ایسا کرتے
عاصمؔ واسطی
لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا
ساتھ شاید اسے لے آئے ہوا دیکھتے ہیں
عاصمؔ واسطی
کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے
کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے
عاصمؔ واسطی
کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا
بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے
عاصمؔ واسطی
خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان
یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے
عاصمؔ واسطی

