انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن
ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے
ارشد عبد الحمید
مٹی کو چوم لینے کی حسرت ہی رہ گئی
ٹوٹا جو شاخ سے تو ہوا لے گئی مجھے
ارشد عبد الحمید
مدتوں گھاؤ کیے جس کے بدن پر ہم نے
وقت آیا تو اسی خواب کو تلوار کیا
ارشد عبد الحمید
ساون آتے ہی بڑھے آوازوں کا زور
خوشبو چیخے ڈال پر رنگ مچائیں شور
ارشد عبد الحمید
سر بلندی مری تنہائی تک آ پہنچی ہے
میں وہاں ہوں کہ جہاں کوئی نہیں میرے سوا
ارشد عبد الحمید
سخن کے چاک میں پنہاں تمہاری چاہت ہے
وگرنہ کوزہ گری کی کسے ضرورت ہے
ارشد عبد الحمید
یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی
اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے
ارشد عبد الحمید
زمیں کے پاس کسی درد کا علاج نہیں
زمین ہے کہ مرے عہد کی سیاست ہے
ارشد عبد الحمید
یہ کس کو یاد کیا روح کی ضرورت نے
یہ کس کے نام سے میرے لہو میں پھول کھلے
ارشد عبد الحمید

