مدتوں گھاؤ کیے جس کے بدن پر ہم نے
وقت آیا تو اسی خواب کو تلوار کیا
ارشد عبد الحمید
مٹی کو چوم لینے کی حسرت ہی رہ گئی
ٹوٹا جو شاخ سے تو ہوا لے گئی مجھے
ارشد عبد الحمید
دل کو معلوم ہے کیا بات بتانی ہے اسے
اس سے کیا بات چھپانی ہے زباں جانتی ہے
ارشد عبد الحمید
ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے
اس اک مقام پہ کتنے سفر نکل آئے
ارشد عبد الحمید
میں اپنے آپ کو بھی دیکھنے سے قاصر ہوں
یہ شام ہجر مجھے کیا دکھانا چاہتی ہے
ارشد عبد الحمید
کچھ ستارے مری پلکوں پہ چمکتے ہیں ابھی
کچھ ستارے مرے سینے میں سمائے ہوئے ہیں
ارشد عبد الحمید
کس کس کو سمجھائے گا یہ نادانی چھوڑ
چہرے کو سندر بنا آئینہ مت توڑ
ارشد عبد الحمید
خدا کرے یہ روشنی پڑے کبھی نہ ماند
گالوں پر وہ لکھ گیا آدھے آدھے چاند
ارشد عبد الحمید
عشق مرہون حکایات و گماں بھی ہوگا
واقعہ ہے تو کسی طور بیاں بھی ہوگا
ارشد عبد الحمید

