EN हिंदी
انور صابری شیاری | شیح شیری

انور صابری شیر

33 شیر

میں جو رویا ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے
حسن کی فطرت میں شامل ہے محبت کا مزاج

انور صابری




شب فراق کی ظلمت ہے نا گوار مجھے
نقاب اٹھا کہ سحر کا ہے انتظار مجھے

انور صابری




تمام عمر قفس میں گزار دی ہم نے
خبر نہیں کہ نشیمن کی زندگی کیا ہے

انور صابری




تصور کے سہارے یوں شب غم ختم کی میں نے
جہاں دل کی خلش ابھری تمہیں آواز دی میں نے

انور صابری




اف وہ آنکھیں مرتے دم تک جو رہی ہیں اشک بار
ہائے وہ لب عمر بھر جن پر ہنسی دیکھی نہیں

انور صابری




اف وہ معصوم و حیا ریز نگاہیں جن پر
قتل کے بعد بھی الزام نہیں آتا ہے

انور صابری




وقت جب کروٹیں بدلتا ہے
فتنۂ حشر ساتھ چلتا ہے

انور صابری




ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہو
زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو

انور صابری




آدمیت کے سوا جس کا کوئی مقصد نہ ہو
عمر بھر اس آدمی کی جستجو کرتے رہو

انور صابری